نئی دہلی،05؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے سیشن کے پہلے دن آج بینک گھوٹالے، کاویری تنازع اور آندھرا پردیش کے معاملے پر ہنگامے کے سبب لوک سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا اور کارروائی کل تک کے لئے ملتوری کردی گئی۔ وقفہ سوالات میں ایک بار کارروائی ملتوی کئے جانے کے بعد دوپہر 12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہوتے ہی کانگریس کے ممبران بینک گھوٹالے کے معاملے پر وزیراعظم سے جواب دینے، حکمران جماعت کی پارٹیوں ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر کانگریس کے ممبران، آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے، ٹی آر ایس کے ممبران تلنگانہ میں ریزروریشن کا کوٹہ بڑھانے نیز انا دراک کے ممبران کاکاویری ندی کے پانی کے تنازعہ کے معاملے پر اسپیکر کی نشست کے نزدیک آ کر نعرے بازی اور شور شرابہ کرنے لگے۔ ترنمول کانگریس کے ارکان بھی بینک گھوٹالے کے معاملے شور مچا رہے تھے۔شور شرابے کے درمیان ہی لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے ضروری دستاویزات ایوان میں پیش کئے۔ انہوں نے ایوان کو ناگالینڈ سے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ نیفیو ریو کے استعفے کی بھی اطلاع دی۔ اسپیکر نے بتایا کہ مسٹر ریو کا استعفی 22 فروری کو منظور کرلیا گیا ہے۔ اس دوران پیلی پٹی لگائے ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر کانگریس کے ممبر وی وانٹ جسٹس کے نعرے لگا رہے تھے۔ ٹی آر ایس کے ممبروں نے ہاتھوں میں تختیاں اٹھا رکھی تھیں جس میں لکھا تھا تلنگانہ ریاست کا ریزرویشن کوٹا بڑھاؤ جبکہ انا درامک کے ممبر ان کاویری ندی کے معاملے پر شور شرابہ کررہے تھے۔ کانگریس کے کچھ ارکان بھی اسپیکر کی نشست کے نزدیک تھے اور وہ بینک گھوٹالے پر وزیراعظم نریندر مودی سے جواب دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس دوران کانگریس کی سابق صدر محترمہ سونیا گاندھی ایوان میں موجود تھیں۔ شور و ہنگامہ بڑھنے پر محترمہ مہاجن نے تقریبا 10 منٹوں میں ہی کارروائی کل تک کے لئے ملتوری کردی۔